Wednesday, 25 March 2020

کرونا وائرس کا مسلئہ کب تک رہے گا؟

کرونا وائرس سے بگڑتی ہوئی غیر واضح سی صورتِ حال میں ہر کسی کے ذہن میں بس ایک ہی سوال ہے کہ آخر کرونا وائرس کا مسلئہ کب تک رہے گا؟ یاد رکھیں کہ جب کوئی وائرس معرضِ وجود میں آتا ہے تو پھر وہ کبھی بھی مکمل طور پر ختم نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ کسی نہ کسی صورت یا حد تک آئندہ کے لئے اپنے وجود کو برقرار ضرور رکھتا ہے۔ ماضی کی پھیلنے والی کسی بھی وبا کا تاریخی جائزہ لیا جائے تو یہ بات پتہ چلتی ہے کہ اس کے وبا کا موجب وائرس آج بھی موجود ہے۔ بس انسان نے ہر وبائی وائرس کی ویکسین یا دوا تیار کر کے بذریعہ علاج ہی ہر موذی بیماری کی روک تھام کی ہوئی ہے۔ مثلاً چیچک کی وبائی مرض کا وائرس آج بھی موجود ہے لیکن انسان نے بذریعہ ویکسینیشن اس کا پھیلاو روکا ہوا ہے۔ بالکل اِسی طرح وائرسز کے تاریخی پسِ منظر کی روشنی میں اگر بات کی جائے تو کرونا وائرس کا مکمل خاتمہ تو نہیں کیا جا سکتا، ہاں مگر اس کی ویکسینیشن یا دوا تیار کر کے اس کا علاج دریافت کرکے ہی اس سے بچا جا سکتا ہے۔ مختلف ترقی یافتہ ممالک اس مد میں کرونا وائرس کی روک تھام کے لئے ویکسین تیار کرنے کی فوری کوششیں کر رہے ہیں۔ لیکن ویکسین تیار ہوتے ہوئے، تجرباتی مراحل سے گزرتے ہوئے اور مارکیٹ میں آتے آتے ایک سال سے ڈیڑھ سال کا وقت لگ سکتا ہے۔ یعنی کرونا وائرس کے خلاف انسانی جنگ کسی ویکسین کی عدم موجودگی میں لمبے عرصے تک چلےگی۔ اِس آرٹیکل کا مقصد قطعی خوف و حراس پیدا کرنا نہیں ہے بلکہ عوام والناس کو ذہنی طور پر تیار کرنا ہے کہ اگر خدانخواستہ ہمیں کرونا وائرس کی وبا کے خلاف لمبے عرصے تک نبردآزما ہونا ہے تو ہمیں چاہئے کہ ہم آج سے ہی اپنے رویوں اور عادات میں درکار ضروری اطوار پیدا کرنا شروع کردیں۔

از
ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Thursday, 25 August 2016

کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھے ۔ ۔ ۔

کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھے جلاتا رہا رات بھر
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھے سمجھاتا رہا رات بھر

ڈوبنے کو تیار تھے ہم دونوں ہی آنسووں میں
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھےبچاتا رہا رات بھر

بے سکوں ہوئے، بے چین رہے، اِس قدر اِس قدر
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھےستاتا رہا رات بھر

نیندوں کے دئیے، یادوں کی بارش میں نہ جل سکے
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھےجگاتا رہا رات بھر

انجاں تھے ہم گبھرا گئے غموں کی نئی راہوں پر
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھےبھگاتا رہا رات بھر

شراب تھی، ساقی مگر تھا نہیں، تنہائی تھی
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھے پلاتا رہا رات بھر

روٹھے اُس رُت میں ، منانے والا نہ میلوں تک
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھے مناتا رہا رات بھر

بھولنے کو ہی ہوتا تھا کہ پھر بے وفائی کا قصہ
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھے سناتا رہا رات بھر

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Wednesday, 24 August 2016

نشے کی نیند ۔ ۔ ۔

نشے کی نیند میں سوئے اِس طرح
زندگی خواب لگنے لگی ہمیں
دھوکے کھائے چاہت میں ایسے
محبت خراب لگنے لگی ہمیں
ٹوٹا جو دل بری طرح سے
اچھی شراب لگنے لگی ہمیں
اجڑی کچھ ایسے تمناوں کی بستی
ویرانگی شاداب لگنے لگی ہمیں
رخصت ہوئی جب جذبات کی گرمی
ٹھنڈ بے حساب لگنے لگی ہمیں
بے سکوں اتنے ہوئے کہ آنے کو
موت بے تاب لگنے لگی ہمیں

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Sunday, 21 August 2016

بھاگے ہوئے ہیں ہم

خوابوں سے دور بھاگے ہوئے ہیں ہم
کتنی راتوں کے جاگے ہوئے ہیں ہم

دل جس کا چاہے وہی توڑ جائے
بنے ایسے کچے دھاگے ہوئے ہیں ہم

جتنا سوچا درد سے کنارہ کریں گے
اُتنا زخم کھانے کو آگے ہوئے ہیں ہم

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Thursday, 18 August 2016

اعتماد

اِک چیز
جب ہوتی ہے
تو ہوتی ہے
اور پھر
ہوتی ہی چلی جاتی ہے
مگر جب وہ چیز
ٹوٹتی ہے تو
کرچیاں بکھرنے لگتیں ہیں
اور وہ کرچیاں
دل میں دھنسنے لگتیں ہیں
بے شک
بہت دکھ ہوتا ہے
جب ’’اعتماد‘‘ ٹوٹتا ہے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Wednesday, 17 August 2016

کر نہیں سکتا

الفاظ کی قید میں بند ارماں کر نہیں سکتا
سوچ تو سکتا ہوں مگر بیاں کر نہیں سکتا

خواہش واویلا کرتی ہے کثرت سے دل میں
مہیا حسرت مٹانے کا ساماں کر نہیں سکتا

تقاضے جسم کے یہاں روح سے بڑھ کر
ہلکان خود کے لئے جاں کر نہیں سکتا

خودی نیلام کرنا پڑے کاروبارِ محبت میں
ذیشاںؔ برداشت اتنا بڑا نقصاں کر نہیں سکتا

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Friday, 12 August 2016

سگریٹ

اپنی طبیعت کو سگریٹ سے سُلگاتا چلا گیا
اپنے خیالات کو دھویں میں اڑاتا چلا گیا

ہر سانس ختم کر رہی ہو زندگی کو جیسے
ہر کش سگریٹ کو ایسے جلاتا چلا گیا

اہلِ زمانہ سگریٹ کو موت کہتے ہیں
میں اِس موت کو لبوں میں دباتا چلا گیا

طلب تو کب کی ختم ہو چکی تھی لیکن
پی پی کے سگریٹ خود کو ستاتا چلا گیا

محبت کا سفر آگ سے ہوتا ہے راکھ تک
انجامِ سگریٹ ہر بار یہ سمجھاتا چلا گیا

کھو چکا تھا جو اکثر اُس کی یاد میں
دھویں میں عکس اُسکا بناتا چلا گیا

میرے احساس میں بھری زمانے کی تلخیاں
خوشبوئے تمباکو سے خود کو مہکاتا چلا گیا

ترک کر دوں گا سگریٹ ایک بار پی کر
یہ خیال ہی تو سگریٹ کو بڑھاتا چلا گیا

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »