Sunday, 21 August 2016

بھاگے ہوئے ہیں ہم

خوابوں سے دور بھاگے ہوئے ہیں ہم
کتنی راتوں کے جاگے ہوئے ہیں ہم

دل جس کا چاہے وہی توڑ جائے
بنے ایسے کچے دھاگے ہوئے ہیں ہم

جتنا سوچا درد سے کنارہ کریں گے
اُتنا زخم کھانے کو آگے ہوئے ہیں ہم

از: ذیشان احمد بھٹی