Pages
صفحہِ اول
شاعری
تبصرے
سافٹ وئیر
Sunday, 21 August 2016
بھاگے ہوئے ہیں ہم
خوابوں سے دور بھاگے ہوئے ہیں ہم
کتنی راتوں کے جاگے ہوئے ہیں ہم
دل جس کا چاہے وہی توڑ جائے
بنے ایسے کچے دھاگے ہوئے ہیں ہم
جتنا سوچا درد سے کنارہ کریں گے
اُتنا زخم کھانے کو آگے ہوئے ہیں ہم
از: ذیشان احمد بھٹی
اگلا صفحہ
پِچھلا صفحہ
صفحہِ اول