Wednesday, 16 March 2016

سچ بولوں تو

سچ بولوں تو دوری گوارہ نہیں
تیرے بِنا اک پل گزارہ نہیں

اجازت مل جائے پاس آنے کی
کیا ایسا تم نے کوئی اشارہ نہیں

بسا آنکھوں میں تیرے چہرے کا منظر
اچھا لگتا کوئی اب نظارہ نہیں 

بہا کے لے جائے جسے زمانے کی لہر
عشق وہ ٹوٹا ہوا کنارہ نہیں

محبت کا شعلہ صرف دیوانے دل میں
ہر دل میں جلتا یہ شرارہ نہیں

لو آج کہتا ہے یہ تم سے ذیشاںؔ
ہوں کسی کا نہیں، گر تمہارا نہیں

از: ذیشان احمد بھٹی