شبِ بے چینی کی شدت ہوتی لامکاں دیکھی
طلبِ دلکشی میں دھنس گئی جن کی کشتی
بدقسمتی کی ندیا اُن پر بہتی رواں دیکھی
جن پر ہوئے ظاہر نتائجِ حُسن و جمال
پھر زندگی میں انہوں نے رعنائی کہاں دیکھی
سفرِ عشق ذیشاںؔ ہوتا ہے خوں آشام بھی
محبت لاشیں روندتی سرِ کارواں دیکھی
