Wednesday, 24 August 2016

نشے کی نیند ۔ ۔ ۔

نشے کی نیند میں سوئے اِس طرح
زندگی خواب لگنے لگی ہمیں
دھوکے کھائے چاہت میں ایسے
محبت خراب لگنے لگی ہمیں
ٹوٹا جو دل بری طرح سے
اچھی شراب لگنے لگی ہمیں
اجڑی کچھ ایسے تمناوں کی بستی
ویرانگی شاداب لگنے لگی ہمیں
رخصت ہوئی جب جذبات کی گرمی
ٹھنڈ بے حساب لگنے لگی ہمیں
بے سکوں اتنے ہوئے کہ آنے کو
موت بے تاب لگنے لگی ہمیں

از: ذیشان احمد بھٹی