Sunday, 20 March 2016

جو اپنے لگتے تھے

سپنے سب ٹوٹ گئے، جو اپنے لگتے تھے
اپنے سب روٹھ گئے، جو اپنے لگتے تھے

چوری چوری چھپ چھپ کر جو ملنے آتے تھے
چور ہمیں وہ لوٹ گئے، جو اپنے لگتے تھے

غیر تو ہم سے ابتک سچ ہمیشہ بولے تھے
وہی بول کر جھوٹ گئے، جو اپنے لگتے تھے

اپنے دل کو جن راہوں میں بچھایا کرتے تھے
رستے سب وہ چھوٹ گئے، جو اپنے لگتے تھے

از: ذیشان احمد بھٹی