الفاظ کی قید میں بند ارماں کر نہیں سکتا
سوچ تو سکتا ہوں مگر بیاں کر نہیں سکتا
خواہش واویلا کرتی ہے کثرت سے دل میں
مہیا حسرت مٹانے کا ساماں کر نہیں سکتا
تقاضے جسم کے یہاں روح سے بڑھ کر
ہلکان خود کے لئے جاں کر نہیں سکتا
خودی نیلام کرنا پڑے کاروبارِ محبت میں
ذیشاںؔ برداشت اتنا بڑا نقصاں کر نہیں سکتا
از: ذیشان احمد بھٹی
سوچ تو سکتا ہوں مگر بیاں کر نہیں سکتا
خواہش واویلا کرتی ہے کثرت سے دل میں
مہیا حسرت مٹانے کا ساماں کر نہیں سکتا
تقاضے جسم کے یہاں روح سے بڑھ کر
ہلکان خود کے لئے جاں کر نہیں سکتا
خودی نیلام کرنا پڑے کاروبارِ محبت میں
ذیشاںؔ برداشت اتنا بڑا نقصاں کر نہیں سکتا
از: ذیشان احمد بھٹی
