Friday, 12 August 2016

سگریٹ

اپنی طبیعت کو سگریٹ سے سُلگاتا چلا گیا
اپنے خیالات کو دھویں میں اڑاتا چلا گیا

ہر سانس ختم کر رہی ہو زندگی کو جیسے
ہر کش سگریٹ کو ایسے جلاتا چلا گیا

اہلِ زمانہ سگریٹ کو موت کہتے ہیں
میں اِس موت کو لبوں میں دباتا چلا گیا

طلب تو کب کی ختم ہو چکی تھی لیکن
پی پی کے سگریٹ خود کو ستاتا چلا گیا

محبت کا سفر آگ سے ہوتا ہے راکھ تک
انجامِ سگریٹ ہر بار یہ سمجھاتا چلا گیا

کھو چکا تھا جو اکثر اُس کی یاد میں
دھویں میں عکس اُسکا بناتا چلا گیا

میرے احساس میں بھری زمانے کی تلخیاں
خوشبوئے تمباکو سے خود کو مہکاتا چلا گیا

ترک کر دوں گا سگریٹ ایک بار پی کر
یہ خیال ہی تو سگریٹ کو بڑھاتا چلا گیا

از: ذیشان احمد بھٹی