Wednesday, 22 June 2016

خرافات

ڈوبے خرافات میں زمانے دیکھے
انجانے میں کچھ غیر گھرانے دیکھے

شرموں کے لبادے اوڑھے جنہوں نے
لباس اُنکے پڑے اپنے سرہانے دیکھے

متعارف جو ہوئے انجان نئے بن کر
اصلیت میں وہ گھاگ پرانے دیکھے

شبِ گناہ کی نیند میں، تکمیلِ تعبیر میں
سجتے ہوئے خواب سُہانے دیکھے

جل رہےتھے خود ساقی حدتِ پیاس میں 
نہیں ایسے تڑپتے پہلے مے خانے دیکھے

بدلے طلب کے، بکتی رہی طلب
سوداگری سے بھرپور یارانے دیکھے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »