انجانے میں کچھ غیر گھرانے دیکھے
شرموں کے لبادے اوڑھے جنہوں نے
لباس اُنکے پڑے اپنے سرہانے دیکھے
متعارف جو ہوئے انجان نئے بن کر
اصلیت میں وہ گھاگ پرانے دیکھے
شبِ گناہ کی نیند میں، تکمیلِ تعبیر میں
سجتے ہوئے خواب سُہانے دیکھے
جل رہےتھے خود ساقی حدتِ پیاس میں
نہیں ایسے تڑپتے پہلے مے خانے دیکھے
بدلے طلب کے، بکتی رہی طلب
سوداگری سے بھرپور یارانے دیکھے

