کوئی بات من کی مگر لب کہنے نہیں دیتے
امنڈ پڑتا ہے سیلاب بے تابیوں کا یکسر
صبروضبط گر جذبات بہنے نہیں دیتے
گلیوں میں مقدم ہیں پہرے خلافِ عشق
درِ یار پر لوگ مجھے رہنے نہیں دیتے
میں وہ دلہن ہوں جسے سہاگ کے زمانے
بھول کر بھی پیار کے گہنے نہیں دیتے
جاں تو حاضر یک لخت کرنے کو برداشت
طعنے دنیا کے مگر غم سہنے نہیں دیتے
