Wednesday, 23 March 2016

جب سوچا تو ۔ ۔ ۔

جب سوچا تو ہر بات بے بات نکلی
امید کی ہر کرن ہی تو رات نکلی

آتشِ دل کو یخ بستہ کرنے کےلئے
بے ساختہ آنکھوں سے برسات نکلی

کبھی خطاوار ٹھہرا نصیب جو ذیشاںؔ
یک لخت گنہگار اپنی ہی ذات نکلی

از: ذیشان احمد بھٹی