Monday, 29 February 2016

اندیشہ

تجھے اندیشہ ہے میرے بدلنے کا
مجھے خدشہ ہے تیرے بچھڑنےکا

پیار میں رکنا عجب ہے بہت
یہ تو رستہ ہے صرف چلنے کا

زندگی وہ جو ہو شمع کی طرح
موقع ملا ہے ہمیں جلنے کا

مجھے خوف ہے تو جدائی سے
مجھے ڈر نہیں ہے مرنے کا

بے سود جینا وقت کے سہارے
یہ لمحہ تو ہے کچھ کرنے کا

تم روکتے رہو کسی انہونی کو
مجھے ڈر ہے دل کے مچلنے کا

ہم محبت میں ہیں برابر مدہوش
کیوں انتظار نشے کے اترنے کا

خارِ مصیبت آئیں لاکھ مگر
ذیشاں کو تو بس اب بڑھنے کا

گر چپ رہے مجبور ہو کر
تو نہیں یہ غم ہے ٹلنے کا

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Sunday, 28 February 2016

میں مجبور ہوں

تم سے دور ہوں
میں مجبور ہوں
تم کو بھولوں
چلتا نہیں بس
کیسے ملوں تم سے
بڑا ہوں بے بس
کون سمجھے گا
اپنی یاری کو
پیار ہو گیا
زندگی بیچاری کو
آنکھوں میں تیرا خیال
دل ہی لاتا ہے
ناجانے دل میں خیال
کہاں سے آتا ہے
کیا میری محبت
تجھے یاد ہے
تیرا تو ہر انداز
مجھے یاد ہے
تیری جو ادا
ہاتھ لہرا کر
مجھے بلانا
احساس جگا کر
خوں سے لکھے خط
وہ میرا جنوں تھا
الفاظ تھے جو خط پر
وہ میرا ہی خوں تھا
مشکل تمہیں بھی
حوصلے کے لئے
ضروری ہے ملنا
فیصلے کے لئے
تمنا کی کاوش
بیکار نہیں ہے
میرے سوا تجھے بھی
آرام نہیں ہے
اپنا یوں ہنسنا
اک شکایت بن گیا
تیرا میرا ملنا
حکایت بن گیا
تجھے دیکھ کر خود کو
سنبھالا کرونگا
تیرے غم کو چپکے سے
پالا کرونگا
تو صلہ دے نہ دے
مجھے پرواہ نہیں
کہ عشق کا ہر وعدہ
ہوتا وفا نہیں

از: ذیشان احمد بھٹی 
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Saturday, 27 February 2016

ہوئی نہیں سحر

یادوں کے سمندر میں درد کی کشتی پر
کوئی بھی نہ ہوا میرا ہمسفر
وہ لوگ جو آئے گمشدہ رستوں کی طرح
کون کیسا کہاں ہے میں ہوں بے خبر
کبھی جو بہار آئی بھی تو جانے کیلئے
اِک پل ہرا صدیوں بے تاب رہا شجر
جس کی مسکان سے چمنِ دل کھِل اٹھا
اُس ہستی کو بھی زمانے کی لگی نظر
ہم نے تنہائی کو چاہا کبھی تنہائی نے ہمیں
ہر کسی کی قربت ہمیشہ رہی بے اثر
زندگی دوزخ نہ بنی تو جنت سے بچی رہی
شام دل میں رہی ہوئی نہیں سحر
جن کیلئے چھوڑا تھا زمانہ خلوص میں
اُن کی قسمت میں میرے سوا تھا ہر
جو بھولے سے بھی کسی کو چاہنے لگے
پورا شہر ہوا خلاف میرے ٹوٹ پڑا قہر
کوئی تو روحِ جان سے میرا بنے گا
ہمیں اجر بھی نہ ملا بڑاکیا صبر
غموں کے سائے کو کسی نے بھی نہ اپنایا
تنہا تھے تب کہہ دیا تم آؤ اِدھر
دعوے جنہوں نے خوشی میں دوستی کے کیے
جب آئی مصیبت تو جانے گئے کدھر
کسی نے آسرا بھی دیا تو بے آسرا کر کے
پناہ بھی دی تو جلا کر ہمارا گھر
جو مواقع بھی ملے تو بے خودی تھی شرط
شکست میں بھی کٹ گیا جھکا نہیں یہ سر
آگ لگا کے بھی بدن بے نور ہی رہا
خود اندھیرا ہوں تاریک کیا ہو گی قبر
بہت دیر ہو چکی تھی جب یہ پتہ چلا
ظلم کرنا گناہ ہے تو گناہ ہے سہنا جبر

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Friday, 26 February 2016

چپکے سے زخم سِی جاؤ

اپنے غموں کو چھپانا ہے
مسکراہٹیں بکھیرتے جانا ہے
آنسو کے موتیوں کو
بکھرنے سے بچانا ہے
جب کوئی ساتھ نہیں دیتا
دکھ ہمارے نہیں لیتا
کیوں کرنا کسی کو شناسا
کیوں بنانا اپنا تماشا
ہے یہ دنیا کا دستور
غریب سے رہوہمیشہ دور
قریب اسکے بھی نہ رہو
جو اداسی پر ہو مجبور
ضرورت نہیں کچھ بتانے کی
کسی دل میں درد جگانے کی
کسی کا غم جو سنتا ہے
پیچھے سے وہی پھر ہنستا ہے
چپکے سے زخم سِی جاؤ
شکوے گِلے سب پی جاؤ
دکھ جس نے بھی پالا ہے
بڑا ہی ہمت والا ہے
غم سہنے والو سنو ذرا
صبر کا اجر نرالا ہے
ہنستے رہ کر ہونا غالب
ہر کوئی ہے خوشی کا طالب
کسی کو مطلب غم سے نہیں
رغبت آنکھ پُرنم سے نہیں
آنا جب بھی کسی کو نظر
ہنس کے کرنا اُس پر سحر
موم کرے جوپتھر کو
مسکراہٹ رکھتی ہے بڑا اثر

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Thursday, 25 February 2016

-: سوشل میڈیا ’’لادین‘‘ طبقے کا گھاتک ہتھیار بن چکا ہے، محتاط رہیں :-

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی عام لوگوں تک آسان رسائی سے جہاں پیغام رسانی کو لے بہت سے فائدے ہوئے ہیں وہاں کچھ سنگین خطرات بھی سامنے آ کر کھڑے ہو گئے ہیں جن کا حملہ سیدھا عام لوگوں کے ذہنوں پر ہوتا ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں دنیا جہاں کے اُس ’’لادین‘‘ اور ملحد طبقے کی جن کا کوئی دین و ایمان نہیں اور یہ لوگ خدا کے وجود سے انکاری اور مذہب بیزار لوگ ہیں ۔ ان لوگوں نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر عالمی مذاہب اور خصوصاً ’’اسلام‘‘ کے خلاف ایک منظم لفظی اور علمی جنگ نہایت غیر اخلاقی انداز میں شروع کر رکھی ہے۔ 
آج کی نئی نوجوان نسل جس کی بڑی تعداد سوشل میڈیا خصوصاً فیس بک سے منسلک ہے  وہ سب سے زیادہ نشانے پر ہے۔ ان ملحدوں اور لادینوں نے اپنے پیجز پر جو خرافات بک رکھیں ہیں وہ یہاں بیان کرنا قطعی ممکن نہیں ہے بلکہ ایک مسلمان ہونے کے لحاظ سے تصور کرنا بھی گنا ہ ہے لہذٰا یہاں کسی بھی ایسی قابلِ اعتراض بات کو بیان نہیں کیا جا رہا جو ان لادین ملحدوں کی طرف سے نہایت منظم طریقوں سے پھیلائی جا رہی ہیں۔ اس موضوع کو آپ کے زیرِ غور لانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو ترغیب دی جائے کہ اگر آپ کے خاندان میں سے کوئی نوجوان بھائی ، بہن، بیٹا یا بیٹی سوشل میڈیا استعمال کررہا ہے تو اسے نظر انداز مت کریں۔ بلکہ اِس حوالے سے ہرممکن حد تک نظر رکھیں کہ آخر استعمال کنندہ کیا کر رہاہے اور کس قسم کے مواد تک رسائی حاصل کر رہا ہے؟ تاکہ عقلی لبادہ اوڑھے کوئی کفری دھوکہ عقائد کی فصلوں کو تباہ نہ کر سکے۔ ہمارے اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ دوسروں تک شیئر کریں۔ 
اللہ تعالیٰ ہم سب کی دینی و علمی حفاظت فرمائے۔ آمین۔


تحریر: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Wednesday, 24 February 2016

میں اور میری تنہائی

بہت گہرا ساتھ ہے
میرا اور تنہائی کا
جب سے وہ گیا ہے
اندھیرا ہے جدائی کا
کچھ اس طرح تڑپے 
کہ آہ بھی نہ نکلی
ایسے ہوئے اکیلے
کوئی راہ بھی نہ نکلی
میں نہ چاہوں تو بھی
یاد آ جاتی ہے
سرِشام محفل میں
تنہائی چھا جاتی ہے
کچھ سوچ نہیں بدلتی
کچھ میں بھی یہی چاہوں
مجھے نہیں ہے رہنا
یا یہ لوگ نہ ہوں
بے درد کے عشق میں
کیا شے کام آئی
فقط دو چیزیں پائیں
اِک یاد ، اِک تنہائی

از: ذیشان احمد بھٹی

مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Tuesday, 23 February 2016

عاشق نظر پہ خمار آ جاتا ہے

جب سے تیرے حُسن سے
میرے عشق کی ملاقات ہو گئی
چاہے دن ہو یا رات
سب ایک ہی بات ہو گئی

تیرے چہرے پہ جو رنگ  ہے
ویسا کسی شباب میں نہیں
ہر سو روح جو مست کرے
ایسا نشہ شراب میں نہیں

تیری آنکھیں جو بولنے میں
زباں کو بھی مات دیتی ہیں
واللہ کہ اِک ہی نظر میں 
تیرے دل کے حالات دیتی ہیں

سمندر، روشنی ، ابر ، حیا
جمال یا جام اچھا ہے
تو ہی بتا تیری آنکھوں کیلئے
کونسا نام اچھا ہے

تیری ذلفوں سے ہے رغبت کہ 
دل گھٹاؤں کو بھی چاہتا ہے
تیرے ہر اِک بال میں
موتی پرونے کو جی چاہتا ہے

تم جب بھی مسکراتے ہو
صدقِ دل سے پیار آ جاتا ہے
بہار کھِلنے لگتی ہے اور
عاشق نظر پہ خمار آ جاتا ہے

 نذاکت سے بھرے لبوں کو
دل چومنے کی آس کرتا ہے
اِن گلابی ہونٹوں کا گفتار
ہر عام کو خاص کرتا ہے

تیرے رخساروں کی نرمی سے
کلیاں بھی شرمانے لگتیں ہیں
یہ سچ ہے کہ تیرے گزرنے سے
گلیاں بھی جھلملانے لگتیں ہیں

تجھے دیکھ کر بھی سنبھلا ہوں
یہ کسی ہمت سے کم نہیں
کب چھوڑتا ہے کوئی جنت
اور تو جنت سے کم نہیں

آوازِدل تیری تعریف بنی
اور شاعری کو سجایا میں نے
محبت کا دھبہ لگ کے رہا
بہت دامن کو بچایا میں

دن کے خیال، رات کے خواب
سبھی پہ اثر اب تیرا ہے
ذیشاںؔ کیسے بدلے اس حالت کو
نظرِ کرم جب تیرا ہے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Monday, 22 February 2016

دبے خشک پتے قدموں تلے

خزاں میں ہم باغ کو چلے
دبے خشک پتے قدموں تلے
کروں کیسے بیاں
سوکھے پیڑوں کا جہاں
اک پیڑ جس پر
بنایا محبت کا نشاں
لکھے تھے ہم نے مل کر
جس پیڑ پر اپنے نام
آج بھی دیتا ہے
اپنی محبت کا پیغام
گِلہ چمن نے بھی کیا
تمہارے نہ آنے کا
اُسے کیا بتاتے
تیرے چلے جانے کا
ہم یہاں آتے
جب یاد ستاتی
اگر تم آ جاتے تو
بہار آ جاتی

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Sunday, 21 February 2016

اِک ساحل جو پیاسا ہے


اِک ساحل جو پیاسا ہے کسی صحرا کے لئے
حُسن کا مچلنا ابتدا سے پہلے انتہا کےلئے

روشن چاند پر لپکتی ہوئی موجوں کی طرح
تڑپ رہا ہوں اے بے وفا تیری وفا کے لئے

تو مجھے چاہ کر تو میری مان نہیں سکتا
اک بار ملو اپنے ہی دل کی رضا کےلئے

 حُسن کے سمندر سے اک قطرہِ دیدار عطا کر
شاید کہ زندگی ہے میری اِسی صدا کے لئے

وفا کرنا جرم ہے اگر تیرے مزاج میں حضور
تو ہم حاضر ہیں جرمِ وفا کی سزا کے لئے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Saturday, 20 February 2016

ویران شہر میں

میرے دل کی طرح
یہ شہر بھی ویران تھا
گلیوں میں کوچوں گوشوں میں
ہرشخص یہاں پریشان تھا
مجھ سے بھلا کیا
کوئی ربط رکھتا
اپنی ہی دھن میں
ہر کوئی سرِعام ہلکان تھا
پھر اک ہستی نے قسم توڑی
پہلے ہنسی پھر بولی
اے اجنبی! کون ہے تو؟
عالمِ حزن و ملال میں 
اسے تکتے ہوئے میں بولا
اِک مسافر! اِک مسافر!۔

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Friday, 19 February 2016

ہائے یہ لوگ

کوئی مظلوم ہو تو یہ ظالم بنتے ہیں
کوئی ظالم ہو تو یہ مظلوم بنتے ہیں

طلب تھی جن کو مطلبِ عشق کی 
بتایا لوگوں نےکتنے مفہوم بنتے ہیں

بے خوف کہاں ہیں عاشق اِنہوں سے
ملیں لوگ تو مقاصد مضموم بنتے ہیں

نہ سمجھ کر بھی سمجھ لیتے ہیں لوگ
اور سب جان کر بھی معصوم بنتے ہیں

از: ذیشان احمد بھٹی 
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Thursday, 18 February 2016

شاعری

شاعری ہے میری زندگی کے رستوں کی سرائے
جہاں  پر   میں  مسافتوں  کے  رنگ  سمیٹتا  ہوں
خود بیانی  کا  ظرف  مجھ  میں  کہاں  ہے ذیشاںؔ
میں  تو  وہی  لکھتا  ہوں    جو  میں  دیکھتا  ہوں

از: ذیشان احمد بھٹی

مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »