میرا اور تنہائی کا
جب سے وہ گیا ہے
اندھیرا ہے جدائی کا
کچھ اس طرح تڑپے
کہ آہ بھی نہ نکلی
ایسے ہوئے اکیلے
کوئی راہ بھی نہ نکلی
میں نہ چاہوں تو بھی
یاد آ جاتی ہے
سرِشام محفل میں
تنہائی چھا جاتی ہے
کچھ سوچ نہیں بدلتی
کچھ میں بھی یہی چاہوں
مجھے نہیں ہے رہنا
یا یہ لوگ نہ ہوں
بے درد کے عشق میں
کیا شے کام آئی
فقط دو چیزیں پائیں
اِک یاد ، اِک تنہائی

