Wednesday, 24 February 2016

میں اور میری تنہائی

بہت گہرا ساتھ ہے
میرا اور تنہائی کا
جب سے وہ گیا ہے
اندھیرا ہے جدائی کا
کچھ اس طرح تڑپے 
کہ آہ بھی نہ نکلی
ایسے ہوئے اکیلے
کوئی راہ بھی نہ نکلی
میں نہ چاہوں تو بھی
یاد آ جاتی ہے
سرِشام محفل میں
تنہائی چھا جاتی ہے
کچھ سوچ نہیں بدلتی
کچھ میں بھی یہی چاہوں
مجھے نہیں ہے رہنا
یا یہ لوگ نہ ہوں
بے درد کے عشق میں
کیا شے کام آئی
فقط دو چیزیں پائیں
اِک یاد ، اِک تنہائی

از: ذیشان احمد بھٹی