Thursday, 25 February 2016

-: سوشل میڈیا ’’لادین‘‘ طبقے کا گھاتک ہتھیار بن چکا ہے، محتاط رہیں :-

انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی عام لوگوں تک آسان رسائی سے جہاں پیغام رسانی کو لے بہت سے فائدے ہوئے ہیں وہاں کچھ سنگین خطرات بھی سامنے آ کر کھڑے ہو گئے ہیں جن کا حملہ سیدھا عام لوگوں کے ذہنوں پر ہوتا ہے۔ ہم بات کر رہے ہیں دنیا جہاں کے اُس ’’لادین‘‘ اور ملحد طبقے کی جن کا کوئی دین و ایمان نہیں اور یہ لوگ خدا کے وجود سے انکاری اور مذہب بیزار لوگ ہیں ۔ ان لوگوں نے سوشل میڈیا پر بڑے پیمانے پر عالمی مذاہب اور خصوصاً ’’اسلام‘‘ کے خلاف ایک منظم لفظی اور علمی جنگ نہایت غیر اخلاقی انداز میں شروع کر رکھی ہے۔ 
آج کی نئی نوجوان نسل جس کی بڑی تعداد سوشل میڈیا خصوصاً فیس بک سے منسلک ہے  وہ سب سے زیادہ نشانے پر ہے۔ ان ملحدوں اور لادینوں نے اپنے پیجز پر جو خرافات بک رکھیں ہیں وہ یہاں بیان کرنا قطعی ممکن نہیں ہے بلکہ ایک مسلمان ہونے کے لحاظ سے تصور کرنا بھی گنا ہ ہے لہذٰا یہاں کسی بھی ایسی قابلِ اعتراض بات کو بیان نہیں کیا جا رہا جو ان لادین ملحدوں کی طرف سے نہایت منظم طریقوں سے پھیلائی جا رہی ہیں۔ اس موضوع کو آپ کے زیرِ غور لانے کا مقصد یہ ہے کہ آپ کو ترغیب دی جائے کہ اگر آپ کے خاندان میں سے کوئی نوجوان بھائی ، بہن، بیٹا یا بیٹی سوشل میڈیا استعمال کررہا ہے تو اسے نظر انداز مت کریں۔ بلکہ اِس حوالے سے ہرممکن حد تک نظر رکھیں کہ آخر استعمال کنندہ کیا کر رہاہے اور کس قسم کے مواد تک رسائی حاصل کر رہا ہے؟ تاکہ عقلی لبادہ اوڑھے کوئی کفری دھوکہ عقائد کی فصلوں کو تباہ نہ کر سکے۔ ہمارے اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ دوسروں تک شیئر کریں۔ 
اللہ تعالیٰ ہم سب کی دینی و علمی حفاظت فرمائے۔ آمین۔


تحریر: ذیشان احمد بھٹی