میرے دل کی طرح
یہ شہر بھی ویران تھا
گلیوں میں کوچوں گوشوں میں
ہرشخص یہاں پریشان تھا
مجھ سے بھلا کیا
کوئی ربط رکھتا
اپنی ہی دھن میں
ہر کوئی سرِعام ہلکان تھا
پھر اک ہستی نے قسم توڑی
پہلے ہنسی پھر بولی
اے اجنبی! کون ہے تو؟
عالمِ حزن و ملال میں
اسے تکتے ہوئے میں بولا
اِک مسافر! اِک مسافر!۔
از: ذیشان احمد بھٹی
