Saturday, 20 February 2016

ویران شہر میں

میرے دل کی طرح
یہ شہر بھی ویران تھا
گلیوں میں کوچوں گوشوں میں
ہرشخص یہاں پریشان تھا
مجھ سے بھلا کیا
کوئی ربط رکھتا
اپنی ہی دھن میں
ہر کوئی سرِعام ہلکان تھا
پھر اک ہستی نے قسم توڑی
پہلے ہنسی پھر بولی
اے اجنبی! کون ہے تو؟
عالمِ حزن و ملال میں 
اسے تکتے ہوئے میں بولا
اِک مسافر! اِک مسافر!۔

از: ذیشان احمد بھٹی