Sunday, 21 February 2016

اِک ساحل جو پیاسا ہے


اِک ساحل جو پیاسا ہے کسی صحرا کے لئے
حُسن کا مچلنا ابتدا سے پہلے انتہا کےلئے

روشن چاند پر لپکتی ہوئی موجوں کی طرح
تڑپ رہا ہوں اے بے وفا تیری وفا کے لئے

تو مجھے چاہ کر تو میری مان نہیں سکتا
اک بار ملو اپنے ہی دل کی رضا کےلئے

 حُسن کے سمندر سے اک قطرہِ دیدار عطا کر
شاید کہ زندگی ہے میری اِسی صدا کے لئے

وفا کرنا جرم ہے اگر تیرے مزاج میں حضور
تو ہم حاضر ہیں جرمِ وفا کی سزا کے لئے

از: ذیشان احمد بھٹی