خزاں میں ہم باغ کو چلے
دبے خشک پتے قدموں تلے
کروں کیسے بیاں
سوکھے پیڑوں کا جہاں
اک پیڑ جس پر
بنایا محبت کا نشاں
لکھے تھے ہم نے مل کر
جس پیڑ پر اپنے نام
آج بھی دیتا ہے
اپنی محبت کا پیغام
گِلہ چمن نے بھی کیا
تمہارے نہ آنے کا
اُسے کیا بتاتے
تیرے چلے جانے کا
ہم یہاں آتے
جب یاد ستاتی
اگر تم آ جاتے تو
بہار آ جاتی
از: ذیشان احمد بھٹی
