Monday, 22 February 2016

دبے خشک پتے قدموں تلے

خزاں میں ہم باغ کو چلے
دبے خشک پتے قدموں تلے
کروں کیسے بیاں
سوکھے پیڑوں کا جہاں
اک پیڑ جس پر
بنایا محبت کا نشاں
لکھے تھے ہم نے مل کر
جس پیڑ پر اپنے نام
آج بھی دیتا ہے
اپنی محبت کا پیغام
گِلہ چمن نے بھی کیا
تمہارے نہ آنے کا
اُسے کیا بتاتے
تیرے چلے جانے کا
ہم یہاں آتے
جب یاد ستاتی
اگر تم آ جاتے تو
بہار آ جاتی

از: ذیشان احمد بھٹی