میرے عشق کی ملاقات ہو گئی
چاہے دن ہو یا رات
سب ایک ہی بات ہو گئی
تیرے چہرے پہ جو رنگ ہے
ویسا کسی شباب میں نہیں
ہر سو روح جو مست کرے
ایسا نشہ شراب میں نہیں
تیری آنکھیں جو بولنے میں
زباں کو بھی مات دیتی ہیں
واللہ کہ اِک ہی نظر میں
تیرے دل کے حالات دیتی ہیں
سمندر، روشنی ، ابر ، حیا
جمال یا جام اچھا ہے
تو ہی بتا تیری آنکھوں کیلئے
کونسا نام اچھا ہے
تیری ذلفوں سے ہے رغبت کہ
دل گھٹاؤں کو بھی چاہتا ہے
تیرے ہر اِک بال میں
موتی پرونے کو جی چاہتا ہے
تم جب بھی مسکراتے ہو
صدقِ دل سے پیار آ جاتا ہے
بہار کھِلنے لگتی ہے اور
عاشق نظر پہ خمار آ جاتا ہے
نذاکت سے بھرے لبوں کو
دل چومنے کی آس کرتا ہے
اِن گلابی ہونٹوں کا گفتار
ہر عام کو خاص کرتا ہے
تیرے رخساروں کی نرمی سے
کلیاں بھی شرمانے لگتیں ہیں
یہ سچ ہے کہ تیرے گزرنے سے
گلیاں بھی جھلملانے لگتیں ہیں
تجھے دیکھ کر بھی سنبھلا ہوں
یہ کسی ہمت سے کم نہیں
کب چھوڑتا ہے کوئی جنت
اور تو جنت سے کم نہیں
آوازِدل تیری تعریف بنی
اور شاعری کو سجایا میں نے
محبت کا دھبہ لگ کے رہا
بہت دامن کو بچایا میں
دن کے خیال، رات کے خواب
سبھی پہ اثر اب تیرا ہے
ذیشاںؔ کیسے بدلے اس حالت کو
نظرِ کرم جب تیرا ہے
از: ذیشان احمد بھٹی
