Friday, 26 February 2016

چپکے سے زخم سِی جاؤ

اپنے غموں کو چھپانا ہے
مسکراہٹیں بکھیرتے جانا ہے
آنسو کے موتیوں کو
بکھرنے سے بچانا ہے
جب کوئی ساتھ نہیں دیتا
دکھ ہمارے نہیں لیتا
کیوں کرنا کسی کو شناسا
کیوں بنانا اپنا تماشا
ہے یہ دنیا کا دستور
غریب سے رہوہمیشہ دور
قریب اسکے بھی نہ رہو
جو اداسی پر ہو مجبور
ضرورت نہیں کچھ بتانے کی
کسی دل میں درد جگانے کی
کسی کا غم جو سنتا ہے
پیچھے سے وہی پھر ہنستا ہے
چپکے سے زخم سِی جاؤ
شکوے گِلے سب پی جاؤ
دکھ جس نے بھی پالا ہے
بڑا ہی ہمت والا ہے
غم سہنے والو سنو ذرا
صبر کا اجر نرالا ہے
ہنستے رہ کر ہونا غالب
ہر کوئی ہے خوشی کا طالب
کسی کو مطلب غم سے نہیں
رغبت آنکھ پُرنم سے نہیں
آنا جب بھی کسی کو نظر
ہنس کے کرنا اُس پر سحر
موم کرے جوپتھر کو
مسکراہٹ رکھتی ہے بڑا اثر

از: ذیشان احمد بھٹی