مجھے خدشہ ہے تیرے بچھڑنےکا
پیار میں رکنا عجب ہے بہت
یہ تو رستہ ہے صرف چلنے کا
زندگی وہ جو ہو شمع کی طرح
موقع ملا ہے ہمیں جلنے کا
مجھے خوف ہے تو جدائی سے
مجھے ڈر نہیں ہے مرنے کا
بے سود جینا وقت کے سہارے
یہ لمحہ تو ہے کچھ کرنے کا
تم روکتے رہو کسی انہونی کو
مجھے ڈر ہے دل کے مچلنے کا
ہم محبت میں ہیں برابر مدہوش
کیوں انتظار نشے کے اترنے کا
خارِ مصیبت آئیں لاکھ مگر
ذیشاں کو تو بس اب بڑھنے کا
گر چپ رہے مجبور ہو کر
تو نہیں یہ غم ہے ٹلنے کا