Sunday, 28 February 2016

میں مجبور ہوں

تم سے دور ہوں
میں مجبور ہوں
تم کو بھولوں
چلتا نہیں بس
کیسے ملوں تم سے
بڑا ہوں بے بس
کون سمجھے گا
اپنی یاری کو
پیار ہو گیا
زندگی بیچاری کو
آنکھوں میں تیرا خیال
دل ہی لاتا ہے
ناجانے دل میں خیال
کہاں سے آتا ہے
کیا میری محبت
تجھے یاد ہے
تیرا تو ہر انداز
مجھے یاد ہے
تیری جو ادا
ہاتھ لہرا کر
مجھے بلانا
احساس جگا کر
خوں سے لکھے خط
وہ میرا جنوں تھا
الفاظ تھے جو خط پر
وہ میرا ہی خوں تھا
مشکل تمہیں بھی
حوصلے کے لئے
ضروری ہے ملنا
فیصلے کے لئے
تمنا کی کاوش
بیکار نہیں ہے
میرے سوا تجھے بھی
آرام نہیں ہے
اپنا یوں ہنسنا
اک شکایت بن گیا
تیرا میرا ملنا
حکایت بن گیا
تجھے دیکھ کر خود کو
سنبھالا کرونگا
تیرے غم کو چپکے سے
پالا کرونگا
تو صلہ دے نہ دے
مجھے پرواہ نہیں
کہ عشق کا ہر وعدہ
ہوتا وفا نہیں

از: ذیشان احمد بھٹی