میں مجبور ہوں
تم کو بھولوں
چلتا نہیں بس
کیسے ملوں تم سے
بڑا ہوں بے بس
کون سمجھے گا
اپنی یاری کو
پیار ہو گیا
زندگی بیچاری کو
آنکھوں میں تیرا خیال
دل ہی لاتا ہے
ناجانے دل میں خیال
کہاں سے آتا ہے
کیا میری محبت
تجھے یاد ہے
تیرا تو ہر انداز
مجھے یاد ہے
تیری جو ادا
ہاتھ لہرا کر
مجھے بلانا
احساس جگا کر
خوں سے لکھے خط
وہ میرا جنوں تھا
الفاظ تھے جو خط پر
وہ میرا ہی خوں تھا
مشکل تمہیں بھی
حوصلے کے لئے
ضروری ہے ملنا
فیصلے کے لئے
تمنا کی کاوش
بیکار نہیں ہے
میرے سوا تجھے بھی
آرام نہیں ہے
اپنا یوں ہنسنا
اک شکایت بن گیا
تیرا میرا ملنا
حکایت بن گیا
تجھے دیکھ کر خود کو
سنبھالا کرونگا
تیرے غم کو چپکے سے
پالا کرونگا
تو صلہ دے نہ دے
مجھے پرواہ نہیں
کہ عشق کا ہر وعدہ
ہوتا وفا نہیں
اپنا یوں ہنسنا
اک شکایت بن گیا
تیرا میرا ملنا
حکایت بن گیا
تجھے دیکھ کر خود کو
سنبھالا کرونگا
تیرے غم کو چپکے سے
پالا کرونگا
تو صلہ دے نہ دے
مجھے پرواہ نہیں
کہ عشق کا ہر وعدہ
ہوتا وفا نہیں
