Saturday, 27 February 2016

ہوئی نہیں سحر

یادوں کے سمندر میں درد کی کشتی پر
کوئی بھی نہ ہوا میرا ہمسفر
وہ لوگ جو آئے گمشدہ رستوں کی طرح
کون کیسا کہاں ہے میں ہوں بے خبر
کبھی جو بہار آئی بھی تو جانے کیلئے
اِک پل ہرا صدیوں بے تاب رہا شجر
جس کی مسکان سے چمنِ دل کھِل اٹھا
اُس ہستی کو بھی زمانے کی لگی نظر
ہم نے تنہائی کو چاہا کبھی تنہائی نے ہمیں
ہر کسی کی قربت ہمیشہ رہی بے اثر
زندگی دوزخ نہ بنی تو جنت سے بچی رہی
شام دل میں رہی ہوئی نہیں سحر
جن کیلئے چھوڑا تھا زمانہ خلوص میں
اُن کی قسمت میں میرے سوا تھا ہر
جو بھولے سے بھی کسی کو چاہنے لگے
پورا شہر ہوا خلاف میرے ٹوٹ پڑا قہر
کوئی تو روحِ جان سے میرا بنے گا
ہمیں اجر بھی نہ ملا بڑاکیا صبر
غموں کے سائے کو کسی نے بھی نہ اپنایا
تنہا تھے تب کہہ دیا تم آؤ اِدھر
دعوے جنہوں نے خوشی میں دوستی کے کیے
جب آئی مصیبت تو جانے گئے کدھر
کسی نے آسرا بھی دیا تو بے آسرا کر کے
پناہ بھی دی تو جلا کر ہمارا گھر
جو مواقع بھی ملے تو بے خودی تھی شرط
شکست میں بھی کٹ گیا جھکا نہیں یہ سر
آگ لگا کے بھی بدن بے نور ہی رہا
خود اندھیرا ہوں تاریک کیا ہو گی قبر
بہت دیر ہو چکی تھی جب یہ پتہ چلا
ظلم کرنا گناہ ہے تو گناہ ہے سہنا جبر

از: ذیشان احمد بھٹی