روز کا سامنا حُسن سے
مفلس گلیوں میں
انجانوں کی طرح
گزر ہونے پر
مچلے دل
دیوانوں کی طرح
رشتہ تو دور
کوئی تعلق بھی نہیں
پھر بھی حسیناؤں کو
دیکھا ہے کہیں
نظریں بیتاب
اُٹھ جانے کو
ہم مجبور
جُھکانے کو
رہیں محور
نگاہوں کا
پتہ نہ دیں
آہوں کا
راہ چلتا عشق
کم اثر ہے
یا پھر
بے خبر ہے
جانے کب
آفت آئے
یا پھر
راحت آئے
رسوائی سے بہتر
خاموش نظر
کہ ہو جائے
دل پتھر
حُسن والوں کا
اعتبار کہاں ہے
یہ وہاں
رتبہ جہاں ہے
راہیں وہیں سدا
راہی بدل جاتے ہیں
بچھڑنے والے
یاد بہت آتے ہیں
لگن راہ سے
بے بسی سے نہیں
محبت ایک سے
ہر کسی سے نہیں
از: ذیشان احمد بھٹی
