کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھے سمجھاتا رہا رات بھر
ڈوبنے کو تیار تھے ہم دونوں ہی آنسووں میں
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھےبچاتا رہا رات بھر
بے سکوں ہوئے، بے چین رہے، اِس قدر اِس قدر
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھےستاتا رہا رات بھر
نیندوں کے دئیے، یادوں کی بارش میں نہ جل سکے
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھےجگاتا رہا رات بھر
انجاں تھے ہم گبھرا گئے غموں کی نئی راہوں پر
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھےبھگاتا رہا رات بھر
شراب تھی، ساقی مگر تھا نہیں، تنہائی تھی
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھے پلاتا رہا رات بھر
روٹھے اُس رُت میں ، منانے والا نہ میلوں تک
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھے مناتا رہا رات بھر
بھولنے کو ہی ہوتا تھا کہ پھر بے وفائی کا قصہ
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھے سناتا رہا رات بھر




























