Thursday, 25 August 2016

کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھے ۔ ۔ ۔

کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھے جلاتا رہا رات بھر
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھے سمجھاتا رہا رات بھر

ڈوبنے کو تیار تھے ہم دونوں ہی آنسووں میں
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھےبچاتا رہا رات بھر

بے سکوں ہوئے، بے چین رہے، اِس قدر اِس قدر
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھےستاتا رہا رات بھر

نیندوں کے دئیے، یادوں کی بارش میں نہ جل سکے
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھےجگاتا رہا رات بھر

انجاں تھے ہم گبھرا گئے غموں کی نئی راہوں پر
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھےبھگاتا رہا رات بھر

شراب تھی، ساقی مگر تھا نہیں، تنہائی تھی
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھے پلاتا رہا رات بھر

روٹھے اُس رُت میں ، منانے والا نہ میلوں تک
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھے مناتا رہا رات بھر

بھولنے کو ہی ہوتا تھا کہ پھر بے وفائی کا قصہ
کبھی دل کو میں، کبھی دل مجھے سناتا رہا رات بھر

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Wednesday, 24 August 2016

نشے کی نیند ۔ ۔ ۔

نشے کی نیند میں سوئے اِس طرح
زندگی خواب لگنے لگی ہمیں
دھوکے کھائے چاہت میں ایسے
محبت خراب لگنے لگی ہمیں
ٹوٹا جو دل بری طرح سے
اچھی شراب لگنے لگی ہمیں
اجڑی کچھ ایسے تمناوں کی بستی
ویرانگی شاداب لگنے لگی ہمیں
رخصت ہوئی جب جذبات کی گرمی
ٹھنڈ بے حساب لگنے لگی ہمیں
بے سکوں اتنے ہوئے کہ آنے کو
موت بے تاب لگنے لگی ہمیں

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Sunday, 21 August 2016

بھاگے ہوئے ہیں ہم

خوابوں سے دور بھاگے ہوئے ہیں ہم
کتنی راتوں کے جاگے ہوئے ہیں ہم

دل جس کا چاہے وہی توڑ جائے
بنے ایسے کچے دھاگے ہوئے ہیں ہم

جتنا سوچا درد سے کنارہ کریں گے
اُتنا زخم کھانے کو آگے ہوئے ہیں ہم

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Thursday, 18 August 2016

اعتماد

اِک چیز
جب ہوتی ہے
تو ہوتی ہے
اور پھر
ہوتی ہی چلی جاتی ہے
مگر جب وہ چیز
ٹوٹتی ہے تو
کرچیاں بکھرنے لگتیں ہیں
اور وہ کرچیاں
دل میں دھنسنے لگتیں ہیں
بے شک
بہت دکھ ہوتا ہے
جب ’’اعتماد‘‘ ٹوٹتا ہے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Wednesday, 17 August 2016

کر نہیں سکتا

الفاظ کی قید میں بند ارماں کر نہیں سکتا
سوچ تو سکتا ہوں مگر بیاں کر نہیں سکتا

خواہش واویلا کرتی ہے کثرت سے دل میں
مہیا حسرت مٹانے کا ساماں کر نہیں سکتا

تقاضے جسم کے یہاں روح سے بڑھ کر
ہلکان خود کے لئے جاں کر نہیں سکتا

خودی نیلام کرنا پڑے کاروبارِ محبت میں
ذیشاںؔ برداشت اتنا بڑا نقصاں کر نہیں سکتا

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Friday, 12 August 2016

سگریٹ

اپنی طبیعت کو سگریٹ سے سُلگاتا چلا گیا
اپنے خیالات کو دھویں میں اڑاتا چلا گیا

ہر سانس ختم کر رہی ہو زندگی کو جیسے
ہر کش سگریٹ کو ایسے جلاتا چلا گیا

اہلِ زمانہ سگریٹ کو موت کہتے ہیں
میں اِس موت کو لبوں میں دباتا چلا گیا

طلب تو کب کی ختم ہو چکی تھی لیکن
پی پی کے سگریٹ خود کو ستاتا چلا گیا

محبت کا سفر آگ سے ہوتا ہے راکھ تک
انجامِ سگریٹ ہر بار یہ سمجھاتا چلا گیا

کھو چکا تھا جو اکثر اُس کی یاد میں
دھویں میں عکس اُسکا بناتا چلا گیا

میرے احساس میں بھری زمانے کی تلخیاں
خوشبوئے تمباکو سے خود کو مہکاتا چلا گیا

ترک کر دوں گا سگریٹ ایک بار پی کر
یہ خیال ہی تو سگریٹ کو بڑھاتا چلا گیا

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Wednesday, 10 August 2016

محبت کیا ہے؟

اِک بے بس سے پوچھا محبت کیا ہے؟
بولا وہ بے بسی سے محبت التجا ہے
اِک مجرم سے پوچھا محبت کیا ہے؟
بولا ہو دُرشتی سے محبت خطا ہے
اِک حسیں سے پوچھا محبت کیا ہے؟
بولی وہ شوخی سے محبت ادا ہے
اِک عاشق سے پوچھا محبت کیا ہے؟
بولا وہ جلدی سے محبت وفا ہے
اِک غریب سے پوچھا محبت کیا ہے؟
بولا وہ لاچارگی سے محبت آسرا ہے
اِک نمازی سے پوچھا محبت کیا ہے؟
بولا وہ سر جھکائے محبت خدا ہے
اِک شاعر سے پوچھا محبت کیا ہے؟
بولا وہ شعر میں محبت انتہا ہے
اِک شرابی سے پوچھا محبت کیا ہے؟
بولا وہ جھوم کر محبت نشہ ہے
اِک پاگل سے پوچھا محبت کیا ہے؟
بولا وہ گھوم کر محبت لا پتہ ہے
اِک معلم سے پوچھا محبت کیا ہے؟
بولا وہ سرکھجائے محبت جذبہ ہے
اِک جواں سے پوچھا محبت کیا ہے؟
بولا وہ مسکرائے محبت مزا ہے
اِک دل جلے سے پوچھا محبت کیا ہے؟
بولا وہ بے رخی سے محبت دھوکہ ہے
اِک سہمے سے پوچھا محبت کیا ہے؟
بولا وہ خوف سے محبت بلا ہے
اک پیاسے سے پوچھا محبت کیا ہے؟
بولا وہ ترس کر محبت گھٹا ہے
اِک عورت سے پوچھا محبت کیا ہے؟
بولی وہ شرم سے محبت حیا ہے
پھر خود سے پوچھا محبت کیا ہے؟
بولی عقل کہ محبت اِک مسلئہ ہے
جو اب تک نہ حل ہوا ہے
گو یہ ’’چاہتوں کا سلسلہ‘‘ ہے 
جو سب کےلئے جدا ہے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Tuesday, 19 July 2016

پہلے

کسی کو دل میں بسانے سے پہلے
کسی کو بے جا چاہنے سے پہلے

چوٹ کے لئے خود کو تیار رکھنا
کٹانا پڑتا ہے سر اٹھانے سے پہلے

چین کھو سکتا ہے بے سکونی میں
کھونا پڑتا ہے کچھ پانے سے پہلے

کوچہِ عشق سے بوجھل پلکیں لیے
جانا پڑتا ہے اکثر آنے سے پہلے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Wednesday, 22 June 2016

خرافات

ڈوبے خرافات میں زمانے دیکھے
انجانے میں کچھ غیر گھرانے دیکھے

شرموں کے لبادے اوڑھے جنہوں نے
لباس اُنکے پڑے اپنے سرہانے دیکھے

متعارف جو ہوئے انجان نئے بن کر
اصلیت میں وہ گھاگ پرانے دیکھے

شبِ گناہ کی نیند میں، تکمیلِ تعبیر میں
سجتے ہوئے خواب سُہانے دیکھے

جل رہےتھے خود ساقی حدتِ پیاس میں 
نہیں ایسے تڑپتے پہلے مے خانے دیکھے

بدلے طلب کے، بکتی رہی طلب
سوداگری سے بھرپور یارانے دیکھے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Saturday, 16 April 2016

میرے خیال

میرے خیال مجھے انساں رہنے نہیں دیتے
کوئی بات من کی مگر لب کہنے نہیں دیتے

امنڈ پڑتا ہے سیلاب بے تابیوں کا یکسر
صبروضبط گر جذبات بہنے نہیں دیتے

گلیوں میں مقدم ہیں پہرے خلافِ عشق
درِ یار پر لوگ مجھے رہنے نہیں دیتے

میں وہ دلہن ہوں جسے سہاگ کے زمانے
بھول کر بھی پیار کے گہنے نہیں دیتے

جاں تو حاضر یک لخت کرنے کو برداشت
طعنے دنیا کے مگر غم سہنے نہیں دیتے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Wednesday, 23 March 2016

جب سوچا تو ۔ ۔ ۔

جب سوچا تو ہر بات بے بات نکلی
امید کی ہر کرن ہی تو رات نکلی

آتشِ دل کو یخ بستہ کرنے کےلئے
بے ساختہ آنکھوں سے برسات نکلی

کبھی خطاوار ٹھہرا نصیب جو ذیشاںؔ
یک لخت گنہگار اپنی ہی ذات نکلی

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Tuesday, 22 March 2016

مجھے گھٹن کا عادی ہونا ہے

مجھے گھٹن کا عادی ہونا ہے
بس شے اک مادی ہونا ہے
جس پہ عیاں کوئی جذبہ نہ ہو
لفظوں کا زباں پہ قبضہ نہ ہو
بس رہنا ہے تاثر کو دبائے
غصہ و الم کو دل میں چھپائے
محض موقع پرستی کو اپنا کر
بناوٹی رُخ چہرے پر سجا کر
گمنا ہے ہجومِ زمانہ میں
گو بن جاوں گمشدہ افسانہ میں
بھول کر امنگ و احساس کو
توڑ کر زندگی کی ہر آس کو
اب ہنسنا ہے نہ رونا ہے
مجھے گھٹن کا عادی ہونا ہے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Monday, 21 March 2016

ہیلو

میں سمجھ نہ سکا
اُسکے لرزتی آواز میں
ہیلو کہنے کو
یہ سب کیا تھا
شکست خوردگی
کسی گزشتہ تلخی پر
یا پھر یاد دھانی
کسی بیتے لمحے کی
جو تسلسل چاہتا ہے
اوہ، اظہارِ محبت بھی تو
مقصود ہو سکتا ہے
تو پھر اور کیا
مطلب ہو سکتا ہے
محض دھیرے سے
ہیلو کہہ کر
فون بند کرنے کا
میں سمجھ نہ سکا

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Sunday, 20 March 2016

جو اپنے لگتے تھے

سپنے سب ٹوٹ گئے، جو اپنے لگتے تھے
اپنے سب روٹھ گئے، جو اپنے لگتے تھے

چوری چوری چھپ چھپ کر جو ملنے آتے تھے
چور ہمیں وہ لوٹ گئے، جو اپنے لگتے تھے

غیر تو ہم سے ابتک سچ ہمیشہ بولے تھے
وہی بول کر جھوٹ گئے، جو اپنے لگتے تھے

اپنے دل کو جن راہوں میں بچھایا کرتے تھے
رستے سب وہ چھوٹ گئے، جو اپنے لگتے تھے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Saturday, 19 March 2016

عذابِ عشق

عذابِ عشق میں گرفتہ بڑوں کی جاں دیکھی
شبِ بے چینی کی شدت ہوتی لامکاں دیکھی

طلبِ دلکشی میں دھنس گئی جن کی کشتی
بدقسمتی کی ندیا اُن پر بہتی رواں دیکھی

جن پر ہوئے ظاہر نتائجِ حُسن و جمال
پھر زندگی میں انہوں نے رعنائی کہاں دیکھی

سفرِ عشق ذیشاںؔ ہوتا ہے خوں آشام بھی
محبت لاشیں روندتی سرِ کارواں دیکھی

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Friday, 18 March 2016

اِک بار

اِک بار پہنچایا تھا
آنکھوں نے
زودواثر حُسن کا
دل تک
پھر بار بار
ترسایا دل نے
آنکھوں کو
دیدارِ حُسن کے لئے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Thursday, 17 March 2016

سوچا نہ تھا

سوچا نہ تھا محبت میں یہ بھی مقام آئے گا
روئے گا تُو اور دل کو میرے آرام آئے گا

کبھی یاد کرونگا تجھ کو، کبھی تجھ سے اپنی وفا کو
کبھی تیری بے وفائی کا قصہ لبِ بام آئے گا

بھول ہی جاؤں گا تجھے رفتہ رفتہ کبھی
صرف ہلکا سا خیال ہمیشہ سرِشام آئے گا

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Wednesday, 16 March 2016

سچ بولوں تو

سچ بولوں تو دوری گوارہ نہیں
تیرے بِنا اک پل گزارہ نہیں

اجازت مل جائے پاس آنے کی
کیا ایسا تم نے کوئی اشارہ نہیں

بسا آنکھوں میں تیرے چہرے کا منظر
اچھا لگتا کوئی اب نظارہ نہیں 

بہا کے لے جائے جسے زمانے کی لہر
عشق وہ ٹوٹا ہوا کنارہ نہیں

محبت کا شعلہ صرف دیوانے دل میں
ہر دل میں جلتا یہ شرارہ نہیں

لو آج کہتا ہے یہ تم سے ذیشاںؔ
ہوں کسی کا نہیں، گر تمہارا نہیں

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Tuesday, 15 March 2016

محبت کے آثار

جب میں چُن لوں گا محبت کے آثار
میری محبت کے لئے ترسے گی تُو
آج برس رہی ہو یونہی بے جا مجھ پر
کبھی میرے لئے آنکھوں سے برسے گی تُو
ڈھونڈے گی میرے گھر کی کھڑی میں مجھے
جب بھی نکلے گی اپنے گھر سے تُو

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Monday, 14 March 2016

دیوانہ بنا رکھا ہے

سنا ہے
کسی نے شہر کو
مستانہ بنا رکھا ہے
مظہرِ حُسن سے
ہر اِک دل کو
آشیانہ بنا رکھا ہے
مگر خود کو
سب سے
بیگانہ بنا رکھا ہے
ہمیں بھی تو
اُس شمع نے
پروانہ بنا رکھا ہے
کہ جس کی
اداؤں نے پاگل
زمانہ بنا رکھا ہے
جو آنکھیں شراب اُسکی
تو دل جلوں کو
پیمانہ بنا رکھا ہے
اور جلوہ گری پہ اُسکی
دولت نے خود کو
نذرانہ بنا رکھا ہے
جب سے دلوں کو
اُس حسینہ نے
نشانہ بنا رکھا ہے
مندرتھا جہاں پر
لوگوں نے وہاں پر
مے خانہ بنا رکھا ہے
ہاں یہ سچ ہے
اُس نے شہر کو
دیوانہ بنا رکھا ہے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Sunday, 13 March 2016

بھوک

اِک بھوک نہ ہو تو کیا چاہیے
خوبی کرنی یہی خدا کو عطا چاہیے

مجبوری ہے جو زندگی کی مرنے تلک
بھوک پیٹ کی ہو تو غذا چاہیے

مطلبی بنایا جس نے سارے جہاں کو
بھوک دولت کی ہو تو روپیہ چاہیے

حوص ہو گئی جس کے آگے فطرت
بھوک جسم کی ہو تو دوسرا چاہیے

بھوک کو بنا کر انساں کی میراث
ناجانے قدرت کو ہم سے کیا چاہیے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Saturday, 12 March 2016

یا تو ۔ ۔ ۔

یا تو رشتوں کو بُھلانا پڑے گا
یا ہمیں محبت کو مٹانا پڑے گا

یا تو ہو دل رشتوں پر غالب
یا ہمیں دل کو سمجھانا پڑے گا

یا تو ہو روشن احساس کی رنگت
یا ہمیں اندھیروں کو جگانا پڑے گا

یا تو ہو گیت جھنکارِ عشق کا
یا ہمیں آہ کو گنگنانا پڑے گا

یا تو ہو بلند چاہت کی پرواز
یا ہمیں پیار کو دبانا پڑے گا

یا تو ہو بے پردگی لطفُ سرور کی
یا ہمیں حجاب کو اپنانا پڑے گا

یا تو ہو غرق جاں سمندرِ یاد میں
یا ہمیں خود کو بچانا پڑے گا

یا تو ہو عاشقی مِلن سے رنگی ہوئی
یا ہمیں تنہائی کو آزمانا پڑے گا

یا تو ہو زندگی رقصِ خمار سے بھری
یا ہمیں درد کو نچانا پڑے گا

یا تو ہو دیوانگی ہر تڑپ سے آشنا
یا تمیں ذیشاںؔ کو بُھلانا پڑے گا

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Friday, 11 March 2016

دوسرا راستہ

میں یہ نہیں کہتا
کہ تم میرے ہو جاؤ
مگر
یہ تو ہو سکتا ہے
کہ تم
مجھے اپنا بنا لو
اور
میں تمہارا ہو جاؤں

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Thursday, 10 March 2016

گذارشات لکھتے ہیں

چلو آؤ کچھ بیتے حالات لکھتے ہیں
کوئی گزری ہوئی ملاقات لکھتے ہیں

کسی کی بخشی عنائیات کو یاد کیے
دل سے نکلی گذارشات لکھتے ہیں

جذبات کے ریلے جب آنکھ سے بہے
بھیگی ہر اُس رات کو برسات لکھتے ہیں

جیت تو لیا اکثر کسی دلنشیں کا دل
مگر ہوئی جو خودی کو وہ مات لکھتے ہیں

یوں تو بُھلایا نہ جائےکوئی بھی قصہ
مگر یاد جو بہت آئے وہ بات لکھتے ہیں

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Wednesday, 9 March 2016

عورت

گو بِن عورت چل سکتا نہیں دنیا کا دھندہ
مگر دنیا کا سب سے بڑا عورت ہے پھندہ

جو پیار کی نرمی سے کرے پتھر کو پانی
تو کرے فریب سے ہر عقلمند کو اندھا

کبھی حُسنِ عورت ہے دل کا سکون
کہیں ناچ کر کرے یہ من کو گندہ

اِک برائی میں کشش، اِک شیطاں کا جال
کِھنچا ایسے ہی نہیں جاتا طرفِ عورت بندہ

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »