Thursday, 10 March 2016

گذارشات لکھتے ہیں

چلو آؤ کچھ بیتے حالات لکھتے ہیں
کوئی گزری ہوئی ملاقات لکھتے ہیں

کسی کی بخشی عنائیات کو یاد کیے
دل سے نکلی گذارشات لکھتے ہیں

جذبات کے ریلے جب آنکھ سے بہے
بھیگی ہر اُس رات کو برسات لکھتے ہیں

جیت تو لیا اکثر کسی دلنشیں کا دل
مگر ہوئی جو خودی کو وہ مات لکھتے ہیں

یوں تو بُھلایا نہ جائےکوئی بھی قصہ
مگر یاد جو بہت آئے وہ بات لکھتے ہیں

از: ذیشان احمد بھٹی