کوئی گزری ہوئی ملاقات لکھتے ہیں
کسی کی بخشی عنائیات کو یاد کیے
دل سے نکلی گذارشات لکھتے ہیں
جذبات کے ریلے جب آنکھ سے بہے
بھیگی ہر اُس رات کو برسات لکھتے ہیں
جیت تو لیا اکثر کسی دلنشیں کا دل
مگر ہوئی جو خودی کو وہ مات لکھتے ہیں
یوں تو بُھلایا نہ جائےکوئی بھی قصہ
مگر یاد جو بہت آئے وہ بات لکھتے ہیں
