بس شے اک مادی ہونا ہے
جس پہ عیاں کوئی جذبہ نہ ہو
لفظوں کا زباں پہ قبضہ نہ ہو
بس رہنا ہے تاثر کو دبائے
غصہ و الم کو دل میں چھپائے
محض موقع پرستی کو اپنا کر
بناوٹی رُخ چہرے پر سجا کر
گمنا ہے ہجومِ زمانہ میں
گو بن جاوں گمشدہ افسانہ میں
بھول کر امنگ و احساس کو
توڑ کر زندگی کی ہر آس کو
اب ہنسنا ہے نہ رونا ہے
مجھے گھٹن کا عادی ہونا ہے
