Sunday, 13 March 2016

بھوک

اِک بھوک نہ ہو تو کیا چاہیے
خوبی کرنی یہی خدا کو عطا چاہیے

مجبوری ہے جو زندگی کی مرنے تلک
بھوک پیٹ کی ہو تو غذا چاہیے

مطلبی بنایا جس نے سارے جہاں کو
بھوک دولت کی ہو تو روپیہ چاہیے

حوص ہو گئی جس کے آگے فطرت
بھوک جسم کی ہو تو دوسرا چاہیے

بھوک کو بنا کر انساں کی میراث
ناجانے قدرت کو ہم سے کیا چاہیے

از: ذیشان احمد بھٹی