مگر دنیا کا سب سے بڑا عورت ہے پھندہ
جو پیار کی نرمی سے کرے پتھر کو پانی
تو کرے فریب سے ہر عقلمند کو اندھا
کبھی حُسنِ عورت ہے دل کا سکون
کہیں ناچ کر کرے یہ من کو گندہ
اِک برائی میں کشش، اِک شیطاں کا جال
کِھنچا ایسے ہی نہیں جاتا طرفِ عورت بندہ
