کسی نے شہر کو
مستانہ بنا رکھا ہے
مظہرِ حُسن سے
ہر اِک دل کو
آشیانہ بنا رکھا ہے
مگر خود کو
سب سے
بیگانہ بنا رکھا ہے
ہمیں بھی تو
اُس شمع نے
پروانہ بنا رکھا ہے
کہ جس کی
اداؤں نے پاگل
زمانہ بنا رکھا ہے
جو آنکھیں شراب اُسکی
تو دل جلوں کو
پیمانہ بنا رکھا ہے
اور جلوہ گری پہ اُسکی
دولت نے خود کو
نذرانہ بنا رکھا ہے
جب سے دلوں کو
اُس حسینہ نے
نشانہ بنا رکھا ہے
مندرتھا جہاں پر
لوگوں نے وہاں پر
لوگوں نے وہاں پر
مے خانہ بنا رکھا ہے
ہاں یہ سچ ہے
اُس نے شہر کو
دیوانہ بنا رکھا ہے
