Sunday, 6 March 2016

جو وفا ہی دے

جو وفا ہی دے، کہیں دغا نہ دے
خدشہ ہے کوئی بُھلا نہ دے

عشق عطا بھی تو خطا بھی ہے
اِس جرم کی کوئی سزا نہ دے

وفاءوں سے لبریز محبوب کہیں
بے رُخی کی کوئی ادا نہ دے

سنے جو کسی کی نہ میرے سِوا
صنم کو کوئی صدا نہ دے

جب زندگی ہو بدتر موت سے
مجھے جینے کی کوئی دعا نہ دے

ناسورِ دل بن جاتا ہے جو
ایسا زخم کوئی، خدا نہ دے

جب ذیشاںؔ پہ چھایا ہو غم کا نشہ
تو خوشی بھی کوئی مزا نہ دے

از: ذیشان احمد بھٹی