Wednesday, 2 March 2016

تنہائیوں کے میلے

کون کہتا ہے کہ ہم تنہا ہیں
تنہائیوں کے میلے ہمراہ ہیں
بدگمانی ہی سہی موجبِ تنہائی
ہم خوش ہیں کہ گمراہ ہیں

دوش ہمارا ہے کسی کا نہیں
محبت کا اُن کو بھی طریقہ نہیں
سونے پہ سہاگہ ہوا یہ کہ 
صبر کا ہمکو بھی سلیقہ نہیں

خوشی ہے تو غمی کے لئے
غمی ہے تو ہم ہی کے لئے
مسکراتے رہے جانے کیسے
آنکھ جو ترسی تو نمی کےلئے

از: ذیشان احمد بھٹی