کون کہتا ہے کہ ہم تنہا ہیں
تنہائیوں کے میلے ہمراہ ہیں
بدگمانی ہی سہی موجبِ تنہائی
ہم خوش ہیں کہ گمراہ ہیں
دوش ہمارا ہے کسی کا نہیں
محبت کا اُن کو بھی طریقہ نہیں
سونے پہ سہاگہ ہوا یہ کہ
صبر کا ہمکو بھی سلیقہ نہیں
خوشی ہے تو غمی کے لئے
غمی ہے تو ہم ہی کے لئے
مسکراتے رہے جانے کیسے
آنکھ جو ترسی تو نمی کےلئے
از: ذیشان احمد بھٹی
