Saturday, 5 March 2016

شامِ تنہائی

اِک شخص ملا تھا راہوں میں
انجانی گلیوں کی بانہوں میں
نظر نظر میں ناجانے
کیا شروع ہوئے افسانے
تیرِ نگاہ نے گھائل کیا
چاہت نے دل کو مائل کیا
میں چلنے لگا جو اپنے نگر
تعاقب میں تھے قدم مگر
اسکاپتہ میں جان گیا
وہ میری نیت پہچان گیا
اُسے نظر میں دل کا خلاصہ دیا
اُس نے بھی ہنس کر دلاسا دیا
پھر شروع ہوا اِک تعلق سا
ہر سانس فضا میں معلق سا
اُسکی گلی میں شام و دِن
چین نہیں تھا اُسکے بِن
میں اُسکے جہاں میں رہنے لگا
محبوب مجھے وہ کہنے لگا
اِک رات ملن کی بھی آئی
جب پائی سنہری تنہائی
سینوں میں تمازت ملنے کی
جذبوں میں حرارت جلنے کی
گزری ہوئی ہر بات کو
بھولیں گے نہ ہم اُس رات کو
پھر دورِ جدائی آنے لگا
پھر غمِ تنہائی چھانے لگا
جو دوست ہوئے تھے لمحوں میں
پھر گِھرے ہوئے تھے صدموں میں
وہ مایوسی میں دور ہوا
میں غم سہنے کو مجبور ہوا
بیتاب رہا تھا دل ہر پل
جیسے گیا ہو سب کچھ جل
ہر شب کو اُسکے نام کیا
محبت کو جس نے ناکام کیا
میں شامِ تنہائی سہنے لگا
وہ بھی تو اکیلا رہنے لگا

از: ذیشان احمد بھٹی