سارے ہی ناطے ٹوٹ گئے، اک رشتہ بحال ہے
پھنس گئے ہیں جس میں، وہ دوستی کا جال ہے
وہ بھول سکتے ہیں ہمیں، ممکن ہے شاید
بھول جائیں ہم انہیں، یہ اُن کا خیال ہے
کبھی دل موت سے منافی ہے قربتوں میں اُنکی
یا پھر اُنکے فراق میں، جینا محال ہے
ہم قابل نہیں ہیں اُنکے حُسنِ خلوص کے
محبت کریں ہم اُن سے، اپنی کیا مجال ہے
کر کے دیوانہ بھول جانا شوق ہے اُن کا
اُنکی اداءوں میں خود کو بچانا وبال ہے
انساں جو گرتا ہے تو پھر گرتا ہی چلا جائے
عشق کیسی ہے پستی، یہ کیسا زوال ہے
کسی جھوٹ کو سچ کر لیتا ہے ہر کوئی
مگر سچ کو جھوٹ کرنا یہ اُنکا کمال ہے
لوگ تو معلوم کرنے کو پوچھتے ہیں احوال
وہ جان کربھی پوچھیں ہمارا کیا حال ہے
از: ذیشان احمد بھٹی
