Wednesday, 23 March 2016

جب سوچا تو ۔ ۔ ۔

جب سوچا تو ہر بات بے بات نکلی
امید کی ہر کرن ہی تو رات نکلی

آتشِ دل کو یخ بستہ کرنے کےلئے
بے ساختہ آنکھوں سے برسات نکلی

کبھی خطاوار ٹھہرا نصیب جو ذیشاںؔ
یک لخت گنہگار اپنی ہی ذات نکلی

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Tuesday, 22 March 2016

مجھے گھٹن کا عادی ہونا ہے

مجھے گھٹن کا عادی ہونا ہے
بس شے اک مادی ہونا ہے
جس پہ عیاں کوئی جذبہ نہ ہو
لفظوں کا زباں پہ قبضہ نہ ہو
بس رہنا ہے تاثر کو دبائے
غصہ و الم کو دل میں چھپائے
محض موقع پرستی کو اپنا کر
بناوٹی رُخ چہرے پر سجا کر
گمنا ہے ہجومِ زمانہ میں
گو بن جاوں گمشدہ افسانہ میں
بھول کر امنگ و احساس کو
توڑ کر زندگی کی ہر آس کو
اب ہنسنا ہے نہ رونا ہے
مجھے گھٹن کا عادی ہونا ہے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Monday, 21 March 2016

ہیلو

میں سمجھ نہ سکا
اُسکے لرزتی آواز میں
ہیلو کہنے کو
یہ سب کیا تھا
شکست خوردگی
کسی گزشتہ تلخی پر
یا پھر یاد دھانی
کسی بیتے لمحے کی
جو تسلسل چاہتا ہے
اوہ، اظہارِ محبت بھی تو
مقصود ہو سکتا ہے
تو پھر اور کیا
مطلب ہو سکتا ہے
محض دھیرے سے
ہیلو کہہ کر
فون بند کرنے کا
میں سمجھ نہ سکا

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Sunday, 20 March 2016

جو اپنے لگتے تھے

سپنے سب ٹوٹ گئے، جو اپنے لگتے تھے
اپنے سب روٹھ گئے، جو اپنے لگتے تھے

چوری چوری چھپ چھپ کر جو ملنے آتے تھے
چور ہمیں وہ لوٹ گئے، جو اپنے لگتے تھے

غیر تو ہم سے ابتک سچ ہمیشہ بولے تھے
وہی بول کر جھوٹ گئے، جو اپنے لگتے تھے

اپنے دل کو جن راہوں میں بچھایا کرتے تھے
رستے سب وہ چھوٹ گئے، جو اپنے لگتے تھے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Saturday, 19 March 2016

عذابِ عشق

عذابِ عشق میں گرفتہ بڑوں کی جاں دیکھی
شبِ بے چینی کی شدت ہوتی لامکاں دیکھی

طلبِ دلکشی میں دھنس گئی جن کی کشتی
بدقسمتی کی ندیا اُن پر بہتی رواں دیکھی

جن پر ہوئے ظاہر نتائجِ حُسن و جمال
پھر زندگی میں انہوں نے رعنائی کہاں دیکھی

سفرِ عشق ذیشاںؔ ہوتا ہے خوں آشام بھی
محبت لاشیں روندتی سرِ کارواں دیکھی

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Friday, 18 March 2016

اِک بار

اِک بار پہنچایا تھا
آنکھوں نے
زودواثر حُسن کا
دل تک
پھر بار بار
ترسایا دل نے
آنکھوں کو
دیدارِ حُسن کے لئے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Thursday, 17 March 2016

سوچا نہ تھا

سوچا نہ تھا محبت میں یہ بھی مقام آئے گا
روئے گا تُو اور دل کو میرے آرام آئے گا

کبھی یاد کرونگا تجھ کو، کبھی تجھ سے اپنی وفا کو
کبھی تیری بے وفائی کا قصہ لبِ بام آئے گا

بھول ہی جاؤں گا تجھے رفتہ رفتہ کبھی
صرف ہلکا سا خیال ہمیشہ سرِشام آئے گا

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Wednesday, 16 March 2016

سچ بولوں تو

سچ بولوں تو دوری گوارہ نہیں
تیرے بِنا اک پل گزارہ نہیں

اجازت مل جائے پاس آنے کی
کیا ایسا تم نے کوئی اشارہ نہیں

بسا آنکھوں میں تیرے چہرے کا منظر
اچھا لگتا کوئی اب نظارہ نہیں 

بہا کے لے جائے جسے زمانے کی لہر
عشق وہ ٹوٹا ہوا کنارہ نہیں

محبت کا شعلہ صرف دیوانے دل میں
ہر دل میں جلتا یہ شرارہ نہیں

لو آج کہتا ہے یہ تم سے ذیشاںؔ
ہوں کسی کا نہیں، گر تمہارا نہیں

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Tuesday, 15 March 2016

محبت کے آثار

جب میں چُن لوں گا محبت کے آثار
میری محبت کے لئے ترسے گی تُو
آج برس رہی ہو یونہی بے جا مجھ پر
کبھی میرے لئے آنکھوں سے برسے گی تُو
ڈھونڈے گی میرے گھر کی کھڑی میں مجھے
جب بھی نکلے گی اپنے گھر سے تُو

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Monday, 14 March 2016

دیوانہ بنا رکھا ہے

سنا ہے
کسی نے شہر کو
مستانہ بنا رکھا ہے
مظہرِ حُسن سے
ہر اِک دل کو
آشیانہ بنا رکھا ہے
مگر خود کو
سب سے
بیگانہ بنا رکھا ہے
ہمیں بھی تو
اُس شمع نے
پروانہ بنا رکھا ہے
کہ جس کی
اداؤں نے پاگل
زمانہ بنا رکھا ہے
جو آنکھیں شراب اُسکی
تو دل جلوں کو
پیمانہ بنا رکھا ہے
اور جلوہ گری پہ اُسکی
دولت نے خود کو
نذرانہ بنا رکھا ہے
جب سے دلوں کو
اُس حسینہ نے
نشانہ بنا رکھا ہے
مندرتھا جہاں پر
لوگوں نے وہاں پر
مے خانہ بنا رکھا ہے
ہاں یہ سچ ہے
اُس نے شہر کو
دیوانہ بنا رکھا ہے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Sunday, 13 March 2016

بھوک

اِک بھوک نہ ہو تو کیا چاہیے
خوبی کرنی یہی خدا کو عطا چاہیے

مجبوری ہے جو زندگی کی مرنے تلک
بھوک پیٹ کی ہو تو غذا چاہیے

مطلبی بنایا جس نے سارے جہاں کو
بھوک دولت کی ہو تو روپیہ چاہیے

حوص ہو گئی جس کے آگے فطرت
بھوک جسم کی ہو تو دوسرا چاہیے

بھوک کو بنا کر انساں کی میراث
ناجانے قدرت کو ہم سے کیا چاہیے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Saturday, 12 March 2016

یا تو ۔ ۔ ۔

یا تو رشتوں کو بُھلانا پڑے گا
یا ہمیں محبت کو مٹانا پڑے گا

یا تو ہو دل رشتوں پر غالب
یا ہمیں دل کو سمجھانا پڑے گا

یا تو ہو روشن احساس کی رنگت
یا ہمیں اندھیروں کو جگانا پڑے گا

یا تو ہو گیت جھنکارِ عشق کا
یا ہمیں آہ کو گنگنانا پڑے گا

یا تو ہو بلند چاہت کی پرواز
یا ہمیں پیار کو دبانا پڑے گا

یا تو ہو بے پردگی لطفُ سرور کی
یا ہمیں حجاب کو اپنانا پڑے گا

یا تو ہو غرق جاں سمندرِ یاد میں
یا ہمیں خود کو بچانا پڑے گا

یا تو ہو عاشقی مِلن سے رنگی ہوئی
یا ہمیں تنہائی کو آزمانا پڑے گا

یا تو ہو زندگی رقصِ خمار سے بھری
یا ہمیں درد کو نچانا پڑے گا

یا تو ہو دیوانگی ہر تڑپ سے آشنا
یا تمیں ذیشاںؔ کو بُھلانا پڑے گا

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Friday, 11 March 2016

دوسرا راستہ

میں یہ نہیں کہتا
کہ تم میرے ہو جاؤ
مگر
یہ تو ہو سکتا ہے
کہ تم
مجھے اپنا بنا لو
اور
میں تمہارا ہو جاؤں

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Thursday, 10 March 2016

گذارشات لکھتے ہیں

چلو آؤ کچھ بیتے حالات لکھتے ہیں
کوئی گزری ہوئی ملاقات لکھتے ہیں

کسی کی بخشی عنائیات کو یاد کیے
دل سے نکلی گذارشات لکھتے ہیں

جذبات کے ریلے جب آنکھ سے بہے
بھیگی ہر اُس رات کو برسات لکھتے ہیں

جیت تو لیا اکثر کسی دلنشیں کا دل
مگر ہوئی جو خودی کو وہ مات لکھتے ہیں

یوں تو بُھلایا نہ جائےکوئی بھی قصہ
مگر یاد جو بہت آئے وہ بات لکھتے ہیں

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Wednesday, 9 March 2016

عورت

گو بِن عورت چل سکتا نہیں دنیا کا دھندہ
مگر دنیا کا سب سے بڑا عورت ہے پھندہ

جو پیار کی نرمی سے کرے پتھر کو پانی
تو کرے فریب سے ہر عقلمند کو اندھا

کبھی حُسنِ عورت ہے دل کا سکون
کہیں ناچ کر کرے یہ من کو گندہ

اِک برائی میں کشش، اِک شیطاں کا جال
کِھنچا ایسے ہی نہیں جاتا طرفِ عورت بندہ

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Tuesday, 8 March 2016

-: میں نے اتحاد کا سبق ’’درخت‘‘ سے سیکھا ہے :-

:میں نے اتحاد کا سبق ’’درخت‘‘ سے سیکھا ہے
جس کا تنا ایک ہونے کی وجہ سے مضبوط ہے
اور
جس کی شاخیں تقسیم در تقسیم ہونے کی وجہ سے کمزور ہیں۔

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Monday, 7 March 2016

کیا نام دوں ؟

دل دید کے لئےدردوں میں گِھر گیا
تجھے دیکھنے کی چاہت کو کیا نام دوں

میرے لئے جو تیری دھڑکتی ہیں دھڑکنیں
تیرے دل کی آہٹ کو کیا نام دوں

سوچوں کے انبار میں خیالوں کے تضاد
مگر سپنوں کی راحت کو کیا نام دوں

میرا دیدار بنے جو تیرے چہرے کی ہنسی
اِس رنگین سجاوٹ کو کیا نام دوں

ہم قائل نہیں کسی کے فہم و افکار سے
زمانے سے بغاوت کو کیا نام دوں

تھک جائے جسم و جاں جو انتظار میں
پُر امید اِس تھکاوٹ کو کیا نام دوں

جو ملے تو لُٹا دے دولت حیاؤں کی
تیری اِس سخاوت کو کیا نام دوں

جو ناراض بھی ہوا تو وفاؤں کی سمت
تیری اِس ملاوٹ کو کیا نام دوں

محبت اپنے لئے چھوٹا سا لفظ ہے
اِس لفظ محبت کو کیا نام دوں

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Sunday, 6 March 2016

جو وفا ہی دے

جو وفا ہی دے، کہیں دغا نہ دے
خدشہ ہے کوئی بُھلا نہ دے

عشق عطا بھی تو خطا بھی ہے
اِس جرم کی کوئی سزا نہ دے

وفاءوں سے لبریز محبوب کہیں
بے رُخی کی کوئی ادا نہ دے

سنے جو کسی کی نہ میرے سِوا
صنم کو کوئی صدا نہ دے

جب زندگی ہو بدتر موت سے
مجھے جینے کی کوئی دعا نہ دے

ناسورِ دل بن جاتا ہے جو
ایسا زخم کوئی، خدا نہ دے

جب ذیشاںؔ پہ چھایا ہو غم کا نشہ
تو خوشی بھی کوئی مزا نہ دے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Saturday, 5 March 2016

شامِ تنہائی

اِک شخص ملا تھا راہوں میں
انجانی گلیوں کی بانہوں میں
نظر نظر میں ناجانے
کیا شروع ہوئے افسانے
تیرِ نگاہ نے گھائل کیا
چاہت نے دل کو مائل کیا
میں چلنے لگا جو اپنے نگر
تعاقب میں تھے قدم مگر
اسکاپتہ میں جان گیا
وہ میری نیت پہچان گیا
اُسے نظر میں دل کا خلاصہ دیا
اُس نے بھی ہنس کر دلاسا دیا
پھر شروع ہوا اِک تعلق سا
ہر سانس فضا میں معلق سا
اُسکی گلی میں شام و دِن
چین نہیں تھا اُسکے بِن
میں اُسکے جہاں میں رہنے لگا
محبوب مجھے وہ کہنے لگا
اِک رات ملن کی بھی آئی
جب پائی سنہری تنہائی
سینوں میں تمازت ملنے کی
جذبوں میں حرارت جلنے کی
گزری ہوئی ہر بات کو
بھولیں گے نہ ہم اُس رات کو
پھر دورِ جدائی آنے لگا
پھر غمِ تنہائی چھانے لگا
جو دوست ہوئے تھے لمحوں میں
پھر گِھرے ہوئے تھے صدموں میں
وہ مایوسی میں دور ہوا
میں غم سہنے کو مجبور ہوا
بیتاب رہا تھا دل ہر پل
جیسے گیا ہو سب کچھ جل
ہر شب کو اُسکے نام کیا
محبت کو جس نے ناکام کیا
میں شامِ تنہائی سہنے لگا
وہ بھی تو اکیلا رہنے لگا

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Friday, 4 March 2016

دوستی کا جال

سارے ہی ناطے ٹوٹ گئے، اک رشتہ بحال ہے
پھنس گئے ہیں جس میں، وہ دوستی کا جال ہے

وہ بھول سکتے ہیں ہمیں، ممکن ہے شاید
بھول جائیں ہم انہیں، یہ اُن کا خیال ہے

کبھی دل موت سے منافی ہے قربتوں میں اُنکی
یا پھر اُنکے فراق میں، جینا محال ہے

ہم قابل نہیں ہیں اُنکے حُسنِ خلوص کے
محبت کریں ہم اُن سے، اپنی کیا مجال ہے

کر کے دیوانہ بھول جانا شوق ہے اُن کا
اُنکی اداءوں میں خود کو بچانا وبال ہے

انساں جو گرتا ہے تو پھر گرتا ہی چلا جائے
عشق کیسی ہے پستی، یہ کیسا زوال ہے

کسی جھوٹ کو سچ کر لیتا ہے ہر کوئی
مگر سچ کو جھوٹ کرنا یہ اُنکا کمال ہے

لوگ تو معلوم کرنے کو پوچھتے ہیں احوال
وہ جان کربھی پوچھیں ہمارا کیا حال ہے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Thursday, 3 March 2016

محض ۔ ۔ ۔

لفظوں کے انبار ہیں
سوچوں کے حصار ہیں
لگتے تھے جو مقصدِزندگی
سلسلے سب وہ بیکار ہیں

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Wednesday, 2 March 2016

تنہائیوں کے میلے

کون کہتا ہے کہ ہم تنہا ہیں
تنہائیوں کے میلے ہمراہ ہیں
بدگمانی ہی سہی موجبِ تنہائی
ہم خوش ہیں کہ گمراہ ہیں

دوش ہمارا ہے کسی کا نہیں
محبت کا اُن کو بھی طریقہ نہیں
سونے پہ سہاگہ ہوا یہ کہ 
صبر کا ہمکو بھی سلیقہ نہیں

خوشی ہے تو غمی کے لئے
غمی ہے تو ہم ہی کے لئے
مسکراتے رہے جانے کیسے
آنکھ جو ترسی تو نمی کےلئے

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »

Tuesday, 1 March 2016

مفلس گلیوں میں

روز کا سامنا حُسن سے
مفلس گلیوں میں
انجانوں کی طرح
گزر ہونے پر
مچلے دل
دیوانوں کی طرح
رشتہ تو دور
کوئی تعلق بھی نہیں
پھر بھی حسیناؤں کو
دیکھا ہے کہیں
نظریں بیتاب
اُٹھ جانے کو
ہم مجبور
جُھکانے کو
رہیں محور
نگاہوں کا
پتہ نہ دیں
آہوں کا
راہ چلتا عشق
کم اثر ہے
یا پھر
بے خبر ہے
جانے کب
آفت آئے
یا پھر
راحت آئے
رسوائی سے بہتر
خاموش نظر
کہ ہو جائے
دل پتھر
حُسن والوں کا
اعتبار کہاں ہے
یہ وہاں
رتبہ جہاں ہے
راہیں وہیں سدا
راہی بدل جاتے ہیں
بچھڑنے والے
یاد بہت آتے ہیں
لگن راہ سے
بے بسی سے نہیں
محبت ایک سے
ہر کسی سے نہیں

از: ذیشان احمد بھٹی
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »