یا تو رشتوں کو بُھلانا پڑے گا
یا ہمیں محبت کو مٹانا پڑے گا
یا تو ہو دل رشتوں پر غالب
یا ہمیں دل کو سمجھانا پڑے گا
یا تو ہو روشن احساس کی رنگت
یا ہمیں اندھیروں کو جگانا پڑے گا
یا تو ہو گیت جھنکارِ عشق کا
یا ہمیں آہ کو گنگنانا پڑے گا
یا تو ہو بلند چاہت کی پرواز
یا ہمیں پیار کو دبانا پڑے گا
یا تو ہو بے پردگی لطفُ سرور کی
یا ہمیں حجاب کو اپنانا پڑے گا
یا تو ہو غرق جاں سمندرِ یاد میں
یا ہمیں خود کو بچانا پڑے گا
یا تو ہو عاشقی مِلن سے رنگی ہوئی
یا ہمیں تنہائی کو آزمانا پڑے گا
یا تو ہو زندگی رقصِ خمار سے بھری
یا ہمیں درد کو نچانا پڑے گا
یا تو ہو دیوانگی ہر تڑپ سے آشنا
یا تمیں ذیشاںؔ کو بُھلانا پڑے گا
مزید پڑھنے کیلئے یہاں کلک کریں »